18 جون 2013 - 19:30
ايران کا پر امن ايٹمي پروگرام اور امريکي صدر

امريکي صدر براک اوباما نے اميد ظاہر کي ہے کہ ايران کے جوہري پروگرام کے بارے ميں پائے جانے والے اختلافات ايران کي نئي حکومت کے دور ميں حل کرلئے جائيں گے-

ابنا: آئرلينڈ ميں روسي صدر کے ساتھ ملاقات کے موقع پر صحافيوں سے بات چيت کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ انہيں اميد ہے کہ  ڈاکٹر حسن روحاني کے ايران کا صدر منتخب ہونے سے ايران کے جوہري معاملے کے حل کي غرض سے مذاکرات کا راستہ ہموار ہوگا-صدر ولادي مير پوتن نے بھي اس ملاقات ميں ايران کے جوہري معاملے کے حل کي غرض سے مذاکرات ميں تعاون فراہم کرنے کا اعلان کيا ہے-امريکہ اور اسرائيل، مسلسل ايران  پر جوہري ہتھياروں کے حصول کا الزام لگاتے چلے آرہے ہيں-ايران ان الزامات کو سختي کے ساتھ مسترد کرتا ہے اور اسکا کہنا ہے کہ تہران کا جوہري پروگرام مکمل طور سے پر امن مقاصد کے لئے- امريکي صدر براک اوباما نے رواں سال مارچ کے مہينے ميں کہا تھا کہ ايران کے جوہري پروگرام کو روکنے کے لئے تمام آپشن کھلے ہوئے ہيں-واضح رہے کہ ايران کے نومنتخب صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے بھي پير کے روز اپني پہلي پريس کانفرنس ميں واضح کيا ہے کہ ايران کا جوہري پروگرام مکمل طور سے پرامن  اور عالمي قوانين کے عين مطابق ہے-...../169